کالی کٹ، 5/جنوری (ایس او نیوز/پریس ریلیز) مسلمانوں کی ہمہ جہت ترقی اور بہبود کے لئے تعلیم لازمی ہے، مسلمانوں کے تمام شعبہ حیات میں پچھڑنے کی واحد وجہ تعلیم سے دوری ہے۔ یہ بات مرکز الثقافۃ السنیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر شیخ ابوبکر احمد نے مرکز کے چار روزہ روبی جوبلی عالمی کانفرنس میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کو جہاں دینی تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے وہیں عصری تعلیم کو دینی تعلیم کی طرح شدت سے اپنانے کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہی وجہ ہے کہ مرکز الثقافۃ السنیہ اسلامیہ نے اپنے ابتدائے قیام سے ہی دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم پر توجہ دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرکز میں اس وقت قرآن و شریعت کی تعلیم کے ساتھ پیشہ وارانہ تعلیم بھی دی جاتی ہے اور یہاں سے ڈاکٹر ، انجینئر، وکلاء ایم بی اے نکلتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات حکومت کے مشیر علی الہاشمی نے بھی تعلیم کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ قرآن کی پہلی آیت اِقرا ہے ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام میں تعلیم کی ہی اہمیت ہے اور اسلام کا پہلا پیغام علم ہے۔ انہوں نے کہاکہ انسانیت کی قدر و منزلت بغیر علم کے نہیں پہنچان سکتے۔اسی کے ساتھ انہوں نے کہاکہ انسانی ثفاقت کی تفہیم بھی علم کی بدولت ہے اور خوشی کی بات ہے کہ مرکز نے اس کا بیڑہ اٹھایا ہے۔

لولو گروپ کے چیرمین پدم شری ڈاکٹر ایم اے یوسف علی نے پروگرام میں شرکت سے قبل مرکز بوائز ہائر سیکنڈری اسکول کا افتتاح کیا ، اس موقع پر مسلمانوں سے تعلیمی ادارے قائم کرنے پر زور دیاانہوں نے کہاکہ مرکز سے تعلیم کے سلسلے میں بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر یوسف کو ایکسلینسی ایوارڈ بھی پیش کیا گیا۔
تیونس کی زیتون یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر حشام عبدالکریم قریسہ نے ہندوستان آنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ انہیں یہاں کی تہذیب و ثفافت دیکھ کر بہت اچھا لگ رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مرکز اسی سمت میں کامیابی و کامرانی کے ساتھ آگے بڑھے گا۔
ڈاکٹر عبدالحکیم ازہری ڈائرکٹر مرکز الثقافۃ السنیہ اسلامیہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے جو حالات ہیں اس میں ثقافتی سیاست کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ نفرت اور انتشار کی سیاست کی وجہ سے ملک اس دور سے گزر رہا ہے جب کہ ہندوستان کی شناخت کثیر اور متنوع ثقافت ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اسی ثقافت کو فروغ دیا جائے تاکہ اس ملک سے نفرت کا ماحول ختم ہو۔
جامعہ عارفیہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مجیب الرحمن علیمی نے اپنے خطاب میں کہاکہ ہندوستان مختلف ادیان ومذاہب والا ملک ہے ،یہاں مختلف طبقات کے لوگ رہتے ہیں ،مختلف ذات ونسل کے باجود ہم ایک ہیں ،قومی اتحاد ہی ملک وملت کی ترقی کا ضامن ہے ۔